نولکھی کوٹھی MOBI ↠ Hardcover


نولکھی کوٹھی نولکھی کوٹھی ناولعلی اکبر ناطق📖📖📖📖📖📖📖📖📖علی اکبر ناطق کا یہ جاندار ناول نوآبادیاتی ہندوستان میں ایک فرنگی سول سروس آفیسر ولیم کے خاندان کے عروج و زوال کے گرد گھومتی ہے، جو کہ دراصل ہندوستان میں انگریزوں کے ڈیڑھ، دو سوسالہ قیام اور ہندوستانیوں پر حکمرانی کی نفسیات سے بحث کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے شروع ہونے والی استعماراتی قوتوں کی نوآبادیات بڑھانے کی اس دوڑ میں تقریبا'' سب کے پیش نظر یہی ایک نقطہ تھا کہ ان کے زیر نگیں آنیوالے تمام دیسوں کے لوگ جاہل مطلق، اجڈ اور گنوار ہیں جن کا تہذیب سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔اور یہ استعماری طاقتیں اپنے ساتھ تعلیم و تہذیب کی مشعلیں لے کر ان تاریک براعظموں کے باسیوں کی زندگی کوتعلیم و تربیت اور تہذیب و ثقافت کے جدید پہلوؤں سے روشناس کرنے کیلیے وہاں اپنا کردار ادا کرنے گئیں۔'نولکھی کوٹھی' کی کہانی بیسویں صدی کی تیسری دہائی سے آٹھویں دہائی کے اختتام تک تقریبا'' 50 سے ساٹھ سال تک زیادہ تر پنجاب کے مختلف علاقوں میں وہاں کے لوگوں کے رہن سہن، ان کے طرز بود و باش، مذہب، معاشیات، جاگیردارانہ نظام، دیسی و بدیسی سرکاروں کی کارستانیوں اور تقسیم کے دوران پیش آنیوالے ہوشربا مظالم کی عکاسی کرتی ہے۔ناول کا عنوان 'نولکھی کوٹھی' ، اوکاڑہ میں بنائی گئ ایک پرشکوہ کوٹھی ہے جو کہ کہانی کے مرکزی کردار ولیم جو انڈین سول سروس کا اسسٹنٹ کمشنر منتخب ہو کر آتا ہے اور اپنے دادا ہالرائیڈ اورباپ جانسن کی طرح ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچتا ہے۔ یہ کوٹھی ولیم کے دادا صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر جانسن نے تعمیر کی ہوتی ہے جس میں ولیم کا بچپن اپنی بہن لورین اور اپنے دوست ایشلے کے ساتھ گزرتا ہے۔ ولیم اس مٹی کو جو کہ اس کی جنم بھومی ہوتی ہے، اپنا وطن سمجھ لیتا ہے اور تقسیم کے بعد بھی اس سرزمین میں رہنا اور مرنا پسند کرتا ہے۔ اور اپنے گھر والوں اور دوستوں کے بیحد اصرار کے باوجود بھی نولکھی کوٹھی سے دستبردار ہونا پسند نہیں کرتا مگر پھر حالات کی ستم ظریفی کہ جس شخص کے باپ اور دادا کو غربت و افلاس سے نکال کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بناتا ہے اسی ابن الوقت دیسی افسر کے ہاتھوں اسے کوٹھی بدر کیا جاتا ہے۔ اور اسی عالم میں وہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہوا اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ناول کا پلاٹ بہت منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہے جو کہ بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے ہندوستان میں ہندوستانی ثقافت کی عکاسی کرتے ہوئے دوسری جنگ عظیم اور اس کے برطانیہ جسی استعماری قوت پر مہلک اثرات جس کے نتیجے میں انہیں اپنی ہندوستان جیسی قیمتی نوآبادی سے ہاتھ گنوانا پڑتے ہیں، اور پھر قیام پاکستان کے ساتھ، ہجرت کے مظالم اور اپنے لوگوں کے ہاتھوں اس کے استحصال کے واقعات سے لے کر ابتدائی پینتس چالیس سالوں کی حالت کو بیان کیا گیا گیا ہے۔ناول کا بیانیہ زیادہ تر مرکزی کردار ولیم کے گرد ہی گھومتا ہے جس میں گورے کی نفسیات کو زیادہ بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے جس طرح سے وہ ہندوستانی عوام کو اپنا آبائی غلام سمجھتا ہے اور اسے کالا، جاہل، گنوار، موقع پرست، خونریز اورابن الوقت ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہاں پر ناول نگار کے نسلی تعصب کا برملا اظہار نظر آتا ہے، پورے ناول میں کوئی بھی ہندوستانی کردار ایسا نظر نہیں آتا جس کو قابل تعریف سمجھا جائے۔ فیروزپور تحصیل کے باسی غلام حیدر ابن شیر حیدر، سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر ہمارے جاگیردارانہ نظام کے عکاس کردار ہیں۔ جو کہ خاندانی دشمنیاں اور اپنی مونچھ کے تاؤ کر بڑھاتے بڑھاتے ایک دوجے کی نسلیں برباد کردیتے ہیں۔ غلام حیدر، جو کہ ایک جدید تعلیم یافتہ لڑکا ہوتا ہے، جس پر اس کی جدید تعلیم کا کوئی خاطر خواہ اثر نظر نہیں آتا اور وہ اپنی دشمنی نبھاتے نبھاتے اپنے دشمنوں کو تباہ کر کے خود بھی روپوش ہو جاتا ہے۔ جسے ایک بہت بڑے سیاسی لیڈر کی سفارش پرحالانکہ اس لیڈر کے حوالے سے ایک پندرہ بندوں کے قاتل کی سفارش ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ، جو کہ مبالغہ آمیزی کا بھرپور تاثر دیتا ہے جیل سے رہا کر کے 1945 کے انتخابات میں ایک مہرے کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ تقسیم کے دوران ہجرت کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرما لیتا ہے۔ ہندوستان کے جاگیردانہ نظام کی بہترین عکاسی غلام حیدر اور سودھا سنگھ کے کرداروں کی صورت میں کی گئی ہے۔ جن کی رعیت ان کو اپنا مائی باپ سمجھ کر اپنا تن من دھن ان پر قربان کرتی چلی آتی ہے۔ اور یہ کردار اپنے اپنے متعلقہ حلقوں میں داستانوں کے امر کردار بن کر سامنے آتے ہیں۔ سب سے بہترین عکاسی جو کہ اس ناول میں کی گئ ہے وہ ہمارے ایڈمنسٹریشن سسٹم کی ہے، کیونکہ میں خود کچھ عرصہ اسی نظام میں کام کیا ہے تو اس چیز کو سمجھنا مجھے بہت آسان محسوس ہوا، کہ جس طرح گورے صاحب نے ایک اپنی نوآبادی کو چلانے کیلیے ایڈمنسٹریشن کا نظام متعارف کرایا تھا، جس میں ولیم جیسے فرض شناس افسر بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے علاقوں کی تعلیمی، سماجی و معاشی بدحالی کو دور کرنے کیلیے پوری لگن سے کام کر کے ان علاقوں میں خاطر خواہ تبدیلیاں نافذ کیں۔ جو ان کے بقول بعد میں انہی کی ملک بدری کا باعث بھی بنیں۔ اور اس ناول میں صاحب بہادر اور عام آدمی کے مابین کھینچی گئی اس لکشمن ریکھا کا بھی ذکر ہے جس میں جنتا اور صاحب بہادر کے درمیان ایک سات سمندر پار کی خلیج حائل ہوتی ہے وہی خلیج تقسیم کی سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ابھی تک بھی صاحب بہادر اور جنتا کے درمیان بدستور موجود ہے۔ صاحب بہادر تب بھی شاہانہ پروٹوکول کا اہل اور دعویدار تھا، جو کہ اب بھی اسی شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ صاحب بہادر کے دروازے جنتا کیلیے تب بھی بند تھے اور اب بھی بند ہی رہتے ہیں ۔ صاحب سے قرب حاصل کرنے کیلیے تحفے تحائف سے محبت بڑھانے والی حدیث پر آج بھی من و عن عمل دیکھنے میں آتا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلا صاحب بہارد گورا تھا اور آج کل کا صاحب بہادر تھوڑا سا 'کالا' صاحب بہادر ہے۔ مگر لچھن کالے صاحب کے گورے صاحب سے بہت گئے گزرے ہیں۔ ناول نگار نے چاپلوس اور ابن الوقت قسم کے کلرک مافیا اور محکمہ مال کے افسران جس میں منشی مولانا کرامت اللہ خاں جو کہ مولوی کرامت کی حیثیت سے کہانی کے شروع میں متعارف ہوتا ہے، جس کا گزر بسر اپنے بیٹے فضل دین کی مانگے تانگے کی روٹیوں ، مسجد میں پیش امامت سے حاصل کردہ آمدنی سے بہت تنگدستی سے ہوتا ہے اور جو انگریزی تعلیم کے خلاف فتاوٰی جاری کرتا ہے مگر جب خود سرکاری سکول میں عربی وفارسی زبان کا منشی مقرر ہوتا ہے تو پھر کس طرح سے گرگٹ کی طرح سے رنگ بدل کر اب تعلیم انگریزی کے حق میں احادیث اور آیات سنا سنا کر اپنا رزق حلال کرتا ہے۔ اور اس کا بیٹا فضل جدید تعلیم حاصل کر کے کس طرح سے سیکٹریٹ میں اسسٹنٹ بن کر تقسیم کے دوران اندھے والی ریوڑیاں بانٹ کر اپنے خاندان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے اور گاؤں میں ہر گھر میں مانگے کی روٹیاں اکٹھا کے والے فضلو سے پہلے مولوی فضل حق اور پھر مولانا فضل حق خاں بنتا ہے۔ یہاں پر چارلس ڈارون کی ارتقا کی کہانیسوشل ڈاروانزم تھوڑی تھوڑی سمجھ آتی ہے۔ اور پھر اخیر اس کا بیٹا نواز الحق جو کہ نائب تحصیلدار بھرتی ہو کر اپنے باپ دادا کے خصوصی ہنر کی مدد سے ڈپٹی کمشنر بن کر اپنے دادا کے محسن کواپنی نولکھی کوٹھی سے محروم کرکے حقیقی معنوں میں طوطا چشمی کا ثبوت دیتا ہے۔ ایسے بہت سے کردار ہماری حقیقی زندگی میں بکثرت موجود ہیں جو کہ مولوی کرامت کی طرح خالی ہاتھوں سرکار کی اس نولکھی کوٹھی میں داخل ہوتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ سرکاری ملازم چاہے کلرک ہو، پٹواری ہو، تحصیلدار ہو یا دوسرے صاحب بہادران ہوں، وہ سالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں اور 'سالا میں تو صاحب بن گیا' ہو جاتے ہیں۔بٹوارے سے پہلے اور بعد کے سماجی، معاشی ، سیاسی، مذہبی، تعلیمی اور ثقافتی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہوا یہ ناول پڑھے جانے سے تعلق رکھتا ہے۔ خلیل الرحمان Here is the link to my detailed review of the novel which was published in The Friday TimeshttpswwwthefridaytimescomromancThe text is reproduced belowSet in canal colonies of the Punjab Ali Akbar Nati’s much anticipated debut novel ‘Nou Lakhi Kothi’ is as enticingly rich and multi faceted as the land that he is so unabashedly in love withNati has already made his mark as a poet of vibrant images enigmatic metaphors a brooding sense of history and metaphysical explorations His two anthologies of poetry ‘Baiyaeen Bastioon Mein’ 2010 and ‘Yaoot Kai War’ 2013 provide ample testimony His haunting series of poems ‘Safeer e Laila’ portray the cyclical vagaries of time and civilizational rise and decline that at times remind one of N M Rashid’s masterpiece ‘Hasan Koozagar’ but are nevertheless enthrallingly original That he is an immaculate observer and highly gifted capturer of the geographical and cultural topography of Punjab has already come to light in ‘aim Din’ 2012 – his wonderful volume of short stories In Nou Lakhi Kothi Nati draws on his poetic prose and deep intimacy with the land and people of Punjab to craft a compelling tale of enmity revenge social mobility opportunism past glory and lost grandeurUnder the British Raj Punjab witnessed wide scale technological changes and uniue social engineering The new hydraulic economy of the canal colonies led to displacement of riverine tribes as well as mass migration and resettlement of agricultural people from elsewhere in the province to cultivate the new and rich canal fed tracts in Western Punjab Colonial perceptions of the diversity and differences of local traits and varying potential for loyalty and its conseuent patterns of patronage led to the administrative and legislative consolidation of the highly problematic binaries of agrarian and non agrarian castes martial and non martial races and criminal and non criminal tribesMeanwhile colonial systems of administration and instruments of formal justice endeavored to entrench themselves Rescuing disputants from the at times exploitative dynamics of indigenous dispute resolution systems the colonial thana court and kachehri assumed a central role as arbiters of disputes and symbols of the naya anoon as well as favorite new arenas for further embroilment and perpetuation of such disputes freuent coercive use of the law and the reconfigured leveraging of local influence and power The commodification titling and conseuent facility in the transfer of land the erosion of multiple conventional and informal communitarian claims on its produce and the tussle between indigenous money lending and modern state backed credit further impacted village economies rural power dynamics and social relationships Punjab also became pivotal not just as a bread basket but as the primary breeding ground of fighting troops This necessitated further carving out of enclaves of privilege for loyal landlords – active and absentee; traditional local notables and the nouveau riche as well as retired military officers – and additional uses of land in service of military imperatives and avarice Land alienation powers and reward of arable land were thus central to the colonial incentive structures envisioned to build and sustain the Raj in the decades following 1857Against the backdrop of these major upheavals and reconfigurations Nati’s novel is primarily set in the decades immediately preceding Indian independence The protagonists face a foreseeable future that could not be in greater contrast For William who is sailing to India to take up appointment as an officer of the Indian Civil Service it is the legacy of an illustrious family that has ruled the land for generations City bred and educated Ghulam Haider meanwhile is returning to his vast village fiefdom in the wake of his father’s sudden death and finds himself surrounded by armed loyalists and family retainers fearful of an attempt on his life from arch enemies of his father Maulvi Karamat on the other hand is the imam of a tiny and decrepit village mosue for whom the difference between survival and penury is the largesse of chapatis that his son Fazal Din collects daily from the homesteads – in lieu of freuent free labor and running of chores apart from his father’s ritualistic services – which are then sold every month in a nearby market to keep the family afloatEvents overtake them and intertwine their lives in important inextricable ways over the next several years William harbors strong and paradoxical emotions for the land – reminiscent of Kipling in certain ways – where he grew up and to which he relates deeply Of a romantic bent and zealous about introducing various reforms he finds himself posted as an Assistant Commissioner in an arid tehsil in district Firozpur in east Punjab There he comes face to face with the inertia of the vast clerkdom that thrives in the bureaucratic culture the revenue extraction monomania of his higher officials race and class as the great dividers of people widespread native alienation from colonial forms of governance and justice the misery of poverty and the ever simmering religious communal divides that threaten to develop into larger conflicts William adores the land even if he looks upon most of its inhabitants as crude and inferior – though at times he also appears much amenable to pulling down the walls between the rulers and the ruled than the pukka sahibs He wants to see the landscape prosperous and lush with crops and groves as much to benefit locals and to boost revenues as to assuage his aesthetic sensibilities Meanwhile Ghulam Haider finds himself besieged by Sardar Sodha Singh and his clan and allies who want to settle old scores with his father Sher Haider At the same time Maulvi Karamat stumbles upon career enhancement possibilities that promise an escape from his life of destitution but also pose ideological difficulties as well as challenges of personal re invention Thus embarks a tight and riveting story that explores life in late colonial Punjab from multiple and very different vantage pointsuoteThere have seldom been such vivid rural descriptions since the dream like short stories of Balwant SinghuoteNati skillfully weaves a narrative which is realistic probing and reflective At the heart of the novel is the genesis of a uintessential Punjabi village dispute and its deterioration into a bloody conflict with religious overtones as well as complex underpinnings forged by the contradictions between colonial modes of justice and law enforcement and local customary norms and cultural practices Formal law’s coercive potential the resilient leverage of social status and communal and governmental networks and the parallel functioning of colluding as well as conflicting systems of authorities provide fascinating sub themes The novel deconstructs the juggernaut of the colonial legal bureaucratic machine into its individual cogs and wheels and pervading mood offering delightful vignettes about the pomposity of the gora sahib and even greater pomposity of the memsahib as well as the resentful servility of the native cronies and underlings At the same time Nati’s forte is his savory and multi tiered description – whether of traditional haveli architecture his reservoir of local construction terms seems inexhaustible or the contours and features of the landscape of Eastern and Central Punjab which he paints with the evocativeness of a gifted impressionist Despite his stark realism the poet Nati also makes several appearances further augmenting the appeal of his prose This is when his fascination for the romance of the land takes over and he lovingly describes the glorious vistas trees crop fields waterscapes lights and shades and the shifting seasons This reviewer has seldom come across such vivid rural descriptions since the dream like short stories of Balwant Singh with their nocturnal paintings of chivalrous Punjabi bandits riding in the long moonlit summer nights or the thrilling hunting escapades set in the rugged mystery lands of the gorgeous Potohar plateau by Sabir Hussain RajputYet while romancing the Punjab – his favorite muse Nati does not allow it to distract him from his essential task of storytelling and of telling a story that is ultimately dark and brutal The novel’s mood gets progressively bleak and at times sardonic as the partition of India approaches – as the culture of pillage and the political economy of evacuee properties take root while millions languish and die or find themselves bewildered by the sudden loss of past lives and cherished landscapes In its post partition sections a deep melancholy and nostalgia imbue the narrative as Nati’s characters endeavor to come to grips with new boundaries and classifications William’s character in particular adopts a highly memorable pathos and resonanceNati’s earlier works have demonstrated his great agility with words for not just conveying ideas and insights but also for recreating special moods and particular ways of living Once again his language is a treat to read as he brings forth distinctive Sikh and Muslim rural dialects and often employs a combination of Punjabi and Urdu to promote a hybrid idiom that is better suited to capture the nuances of Punjabi culture and speech A deep empathy for the insignificant the ignored and the disempowered resonates throughout but on the whole Nati retains literary objectivity and elegance and resists didactic pontification His resort at times to satire is also effective and piercingLike an accomplished dastango he sits in the village chopal under the giant peepal and beckons you with the promise of his tale of a famous carnage of heroes eaten up by dust and of the ruins of a past that will never return It is a tale of Punjab and is as enigmatic and wondrous as the land that it is set in As the voice in his celebrated poem Safeer e Laila implores‘Safeer e Laila yehi khandar hain jahan sai aghaaz e dastaan haiZara sa baitho to mein sunaoon ’O Laila’s emissary these are the very ruins where the epic beginsStay awhile and I shall narrate Osama Siddiue is the author of Pakistan’s Experience with Formal Law An Alien Justice Cambridge Cambridge University Press 2013 ناطق کےاس ناول کو ادارہ انڈیپنڈنٹ نے پچھلے عشرہ میں لکھے گئے دس اچھے ناولز میں شمار کیا ان کہ دو ناولز پہلے پڑھ چکا تھا مذکورہ ناول کے اچھے ہونے کی خبر انڈیپنڈنٹ نے کردی سو پڑھا اور پڑھتا چلا گیا کہانی ضلع فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کے کمشنر ولیم جو کہ سول سرونٹ ہے پرگھومتی ہے اور ساتھ ہی مقامی زمینداروں کی غنڈہ گردی، تقسیم کے وقت کے فسادات، نو آبادیاتی سسٹم کی خرابیاں، لوگوں کے بدلتے رویے اور افسر شاہی کے مکروہ چہرہ کو دِکھاتی ہےاس ناول کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسے غیرضروری طور پر طویل کیا گیا ہے Well written considering its the first novel by the writerSome interesting observations about the mechanism how British Bureaucracy treated people in sub continent and how these traditions are still being followed in independent Pakistan in fact the situation became worst over the periodCharacters wise all the local characters sounds like from a Punjabi gujjar movie except for one powerful character Molvi Karamat His transformation from a molvi who was against modern education to a teacher at a missionary school and then preaching for modern education based on Prophet's ahadees ordering to go to China for getting knowledge was a well written part of the novelThe character I liked most is William an English man who was born and brought up in united India and served as Deputy Commissioner in different areas of united Punjab before partition and denied to leave Pakistan as he couldn't find any attachment with England Seems like I'm getting back into the swing of things I devoured this novel in almost a week which is very unlikely but here we are So back to the novel the story of the book revolves around Assistant Commissioner William and the feud of Ghulam Haider and Sardar Soda Singh The author takes his time in building the narrative and spin a web of murder and mayhem in the pre partition Punjab It's a saga of a bygone time; of trippy nostalgic memories and being stuck in a place where you don't belong albeit you want to stay thereReading this novel was a pleasurable experience Among the new novelists of Urdu Ali Akbar Nati is definitely going up the ladder More power to him ادھر ادھر کے تجزیوں سے متاثر ہو کر کتاب لے لی اور پڑھ ڈالی لیکن کتاب متاثر نہ کر سکی۔ بار بار یہ شبہ ہوتا ہے کہ مصنف نے ناول کا پہلا ہی ڈرافٹ چھپنے کو دے دیا ہےاور پہلے ڈرافٹ کو بنانے سنوارنے میں زیادہ محنت نہیں کی۔ جب کہ ناول نگاری بے حد محنت طلب کام ہے اور خصوصا نئے لکھاری کو اپنے مسودے کو بار بار لکھنا چاہئے۔ کردار نگاری پر ذرا بھی محنت نہیں ہوئی۔ کرداروں کو ان کے مخصوص پس منظر میں ان کی گفتگو اور مینر ازم کے اعتبار سے الگ الگے دکھائی دینا چاہئے تھا۔ انگریز ڈپٹی کمشنر کسی بھی پیمانے سے انگریز نہیں لگتا بلکہ بالکل دیسی لگتا ہے۔ اچھی کہانی کی خوبی یہ ہے کہ کہ وہ خود کو بیان کرے نہ کہ مصنف کو بار بار بیچ میں کود کر کرداروں کی کیفیات بیان کرنی پڑیں۔ بہتر ہوتا اگر مصنف تھوڑا صبر سے کام لیتے اور ناول چھپوانے میں کچھ تاخیر کر لیتے۔ تقسیم ہند پر لکھے گئے بہت سے ناولوں کے برعکس نولکھی کوٹھی کی کہانی ہندو مسلم دشمنی نہیں، کچھ اور ہے۔ یہ انگریز دور کے پنجاب میں شروع ہوتی ہے اور تقسیم کے فسادات کی جھلک دکھاتی ہوئی ضیا دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔ اس کا علاقہ غیر منقسم پنجاب کا وسط یعنی فیروز پور کی تحصیل جلال آباد ہے جو اب بھارت کا حصہ ہے۔ناطق کا کہنا ہے کہ ناول کے آدھے سے زیادہ کردار حقیقی شخصیات پر مبنی ہیں۔ کچھ شخصیات اپنے اصلی نام کے ساتھ ناول میں موجود ہیں۔ ناول کو انجام تک پہنچانے کے لیے آخر میں ناطق خود بھی سامنے آجاتے ہیں۔ An excellent novel covering era of pre partition days This novel will connect you to your roots enriched with country life and cultural values of people Mustansar hussain tarar and abdullah hussain has written very well about those times but ali akbar natik has also done justice with the subject This novel emotionally stays with you long time after you have finished it Please listen and share commentary on book Nau Lakhi Kothi perfect


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About the Author: Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Nati began working as a mason specializing in domes and minarets to contribute to the family income while he read widely in Urdu and Arabic Acclaimed as one of the brightest stars in Pakistan's literary firmament Nati has published two volumes of poetry and one collection of short storiesअली अकबर नातिक़ का जन्म 1976 में ओकारा पाकिस्तान में हुआ था। मैट्रिक करने के बाद उन्होंने अपन